مصنف : shahidaakram :: بتاریخ 07 Aug 2008
اگست کا مہينہ ہمارے پيارے وطن کی سالگرہ کا مہينہ ميں نے بھی اپنے بلاگ پرابھي صرف جھنڈا لگايا ہے لکُھوں گی ايک دو دن ميں مگر ابھی تو استقبال کيا ہے سالگرہ کا ماوراءنے ماشاءاللہ کيا سالگرہوں کے ڈھير لگاۓ ہيںايسے ميں جھنڈا ہی کيُوں نا لگا ليں فی الحال ہم بھی
زمرہ : دل کی باتيں | 2 تبصرے »
مصنف : shahidaakram :: بتاریخ 04 Aug 2008
يہ کيسا کھيل ہے تقدير کی بے نام بازی کا
کہ جو ہارے،سو ہارے ہيں
مگر جو جيت جاتے ہيں
اِنہيں بھی اِک نئ اُلجھن کی دلدل گھير ليتی ہے
کہ اِک مُشکل کے بعد اِک اور مُشکل گھير ليتی ہے
سمجھنے کے لۓ آئيں
چليں ہم فرض کرتے ہيں
کِسی لمحے کِسي اِک شخص کو پانا ہماری زندگی سے بھي زيادہ بيش قيمت تھا
ہم اِس کی آرزُو ميں ساری دُنيا بُھول بيٹھے تھے
بس اُس کا نام ليتے تھے ،اُسی کو ياد کرتے تھے
اُسی کی دُھن ميں جيتے تھے،اُسی کے غم ميں مرتے تھے
(امجد اسلام امجد کی ايک حسين نظم تقدير کی کھيلی گئ بازيوں کے نام پر جو ايک حقيقت ہے)
زمرہ : شعر وادب | 3 تبصرے »
مصنف : shahidaakram :: بتاریخ 04 Aug 2008
مُکّمل علم سر جُھکا کر نہيں سر اُٹھا کر سوال کرنے سے حاصل ہوتا ہے-
اگر آپ اپنی مُصيبتيں بُھول جانا چاہتے ہيں تو اپنے سائز سے ايک نمبر کم کا جُوتا پہن کر لمبی سير پر نِکل جائيں-
اگر آپ ريت سے مچھلياں نہيں پکڑ سکتے تو خواتين سے بحث ميں کيسے جيت سکتے ہيں؟(ارے يہ کيا؟)
اگر آپ کو ڈاکٹر ز ندگی مُکّمل طور پر تبديل کرنے کا مشورہ دے تو ڈاکٹر بدل ليں-
ہر بچّے کو کھيلنے کے لۓ وُہی کھلونے ملتے ہيں جو اِس کے باپ کو بچپن ميں نہيں مِلتے-
لکڑی کے خنجر سے آپ زيادہ سے زيادہ پانی کاٹ سکتے ہيں-
عِبادت کے عِلاوہ اگر جُھکنا جائز ہے تو صرف ايک جنگلی پُھول ديکھنے کے لۓ -
آسمان کے ستارے توڑنے سے پيشتر اپنے قدموں ميں بِکھرے سِتاروں کو بھی ديکھ ليجيۓ-
اگر مُحبّت کو اندھی کہا جا سکتا ہے تو شادی نظر ٹيسٹ کرانے کا آسان ترين طريقہ ہے-
قِسمت اکثر اُن لوگوں کو بادام ديتی ہے جِن کے پاس دانت نہيں ہوتے-
صِرف وُہی کشتياں چٹانوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہوتی ہيں جو گہرے سمُندروں ميں جانے کے بجاۓ ساحل کے ساتھ ساتھ سفر کرتی ہيں-
اُس گھر ميں موسم ہميشہ خُوشگوار رہتا ہے جہاں بِيوی اپنے مُتعيّن کردہ راستے پر چلتی ہے اور خاوند وُہ بھی اُسی راستے پر چلتا ہے-
تکّبر سے چلنے والا شخص دراصل اپنے جيسے ہي کِسي شخص کی خاک پر چل رہا ہوتا ہے-
(مُستنصر حُسين تارڑ کی „مزيد چھوٹی باتيں„ سے اقتِباس)
زمرہ : تجزيہ, شعر وادب, طنز و مزاح | 2 تبصرے »
مصنف : shahidaakram :: بتاریخ 29 Jul 2008
جب ميرے سر سے چادر اُتری
تو ميرے گھر کی چھت ميرے لۓ اجنبی ہو گئ
„تُم ہمارے لۓ مر چُکی ہو„
اہلِ خانہ کی خاموشی نے اعلان کيا
اور ميں بابُل کے دروازے سے
دستک دۓ بِناء
لوٹ آئ
ميں نے
(بڑے مان سے)
اپنے پريمی کی طرف ديکھا
مگر اس کی آنکھوں ميں برف جم چُکی تھی
(جيسے ميرے لۓ ان جھيلوں ميں کنول کبھی کھلے ہی نا تھے)
اب ميں کُھلے آسمان تلے کھڑی تھی
اپنے لال کو سينے سے لگاۓ
يا اللہ !ميں کہاں جاؤں
سر پہ پہاڑ سی رات
چاروں طرف بھيڑيئے
اور عورت بُو سُونگھتے ہُوۓ شکاری کُتے
„ہميں گھاس نا ڈالنے کا نتيجہ„ کہتی آنکھيں
„ہميں موقع دو„ کہنے والے اشارے
اور چيتھڑے اُڑانے والےقہقہے
اور مار دينے والی ہنسی
ٹھٹے کرتی ہوا
اور فقرے کستی بارش
ہر طرف سے سنگ باري!
مُجھ ميں اور پاگل پن ميں
بس ايک رات کا فاصلہ رہ گيا تھا
خُود کُشی بھی ميری تاک ميں بيٹھی تھی
قريب تھا کہ ميں اُس کے ہاتھ آجاتی
کہ ايک سايہ ميری طرف بڑھا
اور ميرے سر پر اپنا ہاتھ رکھ ديا
„ہميں کسی کی پرواہ نہيں
تُم جيسی بھی ہو، ہميں عزيزہو!”
اُس دِن
ميں اِتنا روئ
کہ دُنيا اگر ايک خالی تھال ہوتی
تو ميرے آنسُوؤں سے بھر جاتی
ميرا ملامت بھراوجُود
اُس دِن سے آج تک
اِس مہربان ساۓ کی پناہ ميں ہے
خُدا
کبھی کبھی
اپنے فرشتوں کو
زمين پر بھی بھيج ديتا ہے!
پروين شاکر کي ايک اور تلخيوں سے بھر پُور حقيقت کا رنگ لۓ شاہکار نظم
زمرہ : شعر وادب, معاشرہ | 3 تبصرے »
مصنف : shahidaakram :: بتاریخ 29 Jul 2008
نصيب ہی ايسے ہيں
پم لڑکيوں کے
ڈرتی رہتی ہيں، اپنے لڑکی ہونے سے
زمانہ کيا کہے گا
دُنيا کيا سوچے گی
لوگ باتيں کريں گے
خواپشوں کے موتی ،سدا بند رکھتی ہيں
اپنے ہی وجُود کی سيپيوں ميں
کہ سطح پر آ کر ہميں آشکار نا کر ديں
تمنّائيں دفن رکھتی ہيں اپنے وجُود کی قبر ميں
کہ اُن سے کوئ خُوشبُو پُھوٹ کر ہميں بدنام نا کردے
ستی ہو جاتی ہيں ، انہی وجُود کی قبروں ميں
اگر چہ ہميں اجازت نہيں ستی ہونے کی
ہم کانچ جيسی لڑ کياں
نازُک اور نرم
تيتريوں جيسي،پُھولوں جيسی
خُوبصُورت ناموں والی لڑکياں
پُکاری جاتی ہيں
ابھاگن ، منحُوں اور کوکھ جلی جيسی
تاريک اور مکرُوہ ناموں سے
ہمارے مُقدّر
ہمارے ٹائٹل کيُوں بن جاتے ہيں؟
بيوہ،مُطلقہ،يتيم، بانجھ
پروين شاکر کی دل کے تاروں کو ہلا دينے والی ايک حسين تخليق جو ايک حقيقت بھی ہے
زمرہ : شعر وادب, معاشرہ | 2 تبصرے »
مصنف : shahidaakram :: بتاریخ 29 Jul 2008
پانی کے اک قطرے ميں
جب سُورج اُترے
رنگوں کی تصوير بنے
دھنک کی ساتوں قوسيں
اپنی بانہيں يُوں پھيلائيں
قطرے کے ننھے سے بدن ميں
رنگوں کی دُنيا کھنچ آۓ
مگر
بارش کا اک قطرہ آکر
ميری پلک سے اُلجھ گيا
اور آنکھوں ميں ڈُوب گيا
پروين شاکر کی ايک خُوبصُورت نظم بالکُل خُود اُن کی طرح ليکن خُوبصُورتی اور ملال لازم و ملزُوم کيُوں ہوتے ہيں کيا آپ جانتے ہيں؟
زمرہ : دل کی باتيں | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »
مصنف : shahidaakram :: بتاریخ 29 Jul 2008
روز سوچُوں بيٹھ اکيلی
کب غم ہوں گے دُور
کيسے ماں کے سينے لگُوں ميں
ہُوں ملنے سے مجبُور
وہ مُلکِ عدم ميں رہتی ہيں
ميرا نگر ہے دُور
ميری ماں ہے چاند سے بڑھ کر
ميں اُس کی ہُوں چکور
کيا پيارا رشتہ ہے ماں کا جب ہو تو پيار کی قدر اور طرح کی ہوتی ہے اور جب چِھن جاۓ تو لگتا ہے دُنيا اندھير ہو گئ ہم نے کيا کھوديا جو کبھی نہيں مل سکتا واپس نا پيار نا لمس ، نا دُعاؤں بھرے شفيق ہاتھ سائبان کے بغير کُھلے آسمان کے نيچے تپتی جُھلستی زندگي، ٹھنڈا چشمہ جو نا رہا
زمرہ : دل کی باتيں | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »
مصنف : shahidaakram :: بتاریخ 25 Jul 2008
بڑے انجان موسم ميں
بہت بے رنگ لمحوں ميں
بِنا آہٹ،بِنا دستک
بہت معصُوم سا سپنا
اُتر آيا ہے آنکھوں ميں
بِنا سوچے ،بِنا سمجھے
کہا ہے دِل نے چُپکے سے
ہاں اس ننھے سے سپنے کو
آنکھوں ميں جگہ دے دو
بِنا روکے،بِنا ٹوکے
رگوں کاخُون بننے دو
سانسوں ميں مہکنے دو
ہميشہ کی طرح اب بھی
بِنا اُلجھے ،بِنا بولے
جُھکا ديا ہے سر ہم نے
مگر تعبير کيا ہوگي؟
يہ ہم جانيں نہ دل جانے
بس معلُوم ہے اتنا
کہ دل کے فيصلے اکثر
ہميں کم راس آۓ ہيں
(شاعرہ زيڈ اے کنول کی يہ نظم مُجھے اس لۓ اچھی لگی کہ ہم اکثر جو سوچتے ہيں وہ ہوتا نہيں اور جو ہوتا ہے وہ دل کی خواہش نہيں ہوتی دل کے فيصلے بہت معصُوم ہوتے ہيں ليکن کيا کريں کہ دل ہی تو ہے)
زمرہ : شعر وادب | 4 تبصرے »
مصنف : shahidaakram :: بتاریخ 18 Jul 2008
ہم لوگ اور کسی چيز ميں ترقی کرپاۓ ہوں يا نہيں ليکن کُچھ مُعاملات ميں اتنی ترقی کر گۓ ہيں کہ بس ايک دُوسرے سے آگے بڑھنے کے چکّر ميں ،نمبر ون بننے کی اس دوڑ ميں نا کوئ آگے ديکھتا ہے نا پيچھے ، ليکن يہ سوچنے کی فُرصت کسے ہے اور اگر ايسے ميں کہيں کوئ غلطی ہو جاۓ تو مُعافی مانگنا يا معزرت کرنا تو درکنار شايد اسے بھی اپنا حق سمجھا جاتا ہے ،آپ کہيں گے کيا پہيليوں ميں بات کر رہی ہُوں تو بات يہ ہے کہ ميں کل سے صرف اسی اُدھيڑ بُن ميں ہُوں کہ اس سب ميں کون درُست ہے ميرا جزباتی ہو کر سوچنا يا ميڈيا کا اپنے فرائض سے غفلت برتنے کا کريہہ عمل، بہر حال پچھلے تين چار دنوں سے مشہُور شاعر احمد فراز صاحب کی بيماری کی خبريں آ رہی تھيں اور دل سے دُعا نکل رہی تھی کہ اللہ تعاليٰ خُوبصُورت شعروں کے خالق کو صحت اور تندرُستی والی طويل زندگی عطا کرے ،آمين
ليکن کل دوپہر اچانک ايک چينل سے اُن کی وفات کی خبر کی پٹی چلنے لگی ساتھ ساتھ نيچے چلتی پٹی جسے ٹِکر بھی کہتے ہيں ميں مُختلف باتيں لکھی آنے لگيں ايک دم انتہائ دُکھ کے ساتھ ساتھ يادوں اور اُن کی ہر قسم کي شاعری کی ايک طويل فلم سی چلنے لگی ذہن کے پردوں پر اور مُختلف اوقات ميں اُن کے انٹرويو جو سُنے يا ديکھے سبھی ياد آنے لگے اور دُعا کے ساتھ ساتھ ہم اُن يادوں پرباتيں کرتے جا رہے تھے خبروں کا وقت ہُوا تو باقاعدہ خبر نشر ہُوئ ليکن نيوز کاسٹر نے احمدفراز صاحب کے صاحبزادے سے آخر ميں اپنے بيان کی تصديق چاہی تو بہت حيرانگی ہُوئ کہ يہ کيا تماشہ ہے ؟ ليکن تھوڑی دير کے بعد ہی احمد فراز صاحب سے جُڑی خبر کی ترديد کر دی گئ اور ساتھ حوالہ ديا گيا کہ ہميں يہ خبر فلاں چينل سے ملی تھی اس لۓ چلا دی يہ کيا غير ذمّے داری ہے اور کيا اخلاقی ديواليہ پن ہے کہ ہم اپنی دُوکانداری چمکانے کے لۓ کوئ بھی خبر لگا سکتے ہيں اور دُکھ کی بات تو يہ ہے کہ اس پر کوئ معزرت نہيں کی گئ ،ايک لفظ شرمندگی کا نہيں ہميں سوچ کر اتنی تکليف ہو رہی ہے تو اُن کے فيملی ممبرز کو کتنا دُکھ ہو رہا ہوگا اور اب جيسا کہ خبريں آ رہی ہيں کہ اللہ کے فضل سے وہ بہتر ہيں اور پہلے سے اچھی طبيعت ہے ليکن يہ ہمارے ميڈيا والے ان کو کيا کہيں کہ جو صرف خبر کو کيش کرنا چاہتے ہيں يہ سوچے سمجھے بغير کہ ہو سکتا ہے اس کا ری ايکشن سامنے والے پر کيا ہوگا يا آپ کی اميج بھی مُتاثر ہو سکتی ہے ،آپ اس کو کيا کہيں گے کام سے آپ کی لگن يا پھر صرف اپنا نام سب سے پہلے ديکھنے کی اُمنگ،آپ کيا کہيں گے اسے؟
زمرہ : کُچھ اِدھر اُدھر سے | 4 تبصرے »
مصنف : shahidaakram :: بتاریخ 16 Jul 2008
http://www.bbc.co.uk/urdu/avconsole/bb_wm_fs.shtml?redirect=fs.shtml&lang=ur&nbram=1&nbwm=1&bbwm=1&bbram=1&ms3=22&ms_javascript=true&ws_pathtostory=http://www.bbc.co.uk/go/wsindex/int/av/urdu/-/urdu/news/avfile/2008/07/&ws_storyid=080715_gitmo&bbcws=2
يہ بچہ ميرا،آپ کا يا ہم ميں سے کسی کا بھی ہوسکتا ہے پليز اسے ديکھيں پڑھيں اور بتائيں کہ ہم کيا کريں ميں يہ وڈيو پُوری نہيں ديکھ پائ کہ باوجُود پُوری کوشش اور ہمّت کے ميرے کان بار بار پُکارتی ہيلپ می کی آواز کے ساتھ اپنے آپ پر قابُو نہيں رکھ پا رہے تھے اور اب بند کر دينے کے بعد بھی ميرے کانوں ميں وہ آواز ہتھوڑے کی طرح برس رہی ہے کيا ہم بہرے ہو گۓ ہيں جو ايسی پُکاروں کے جواب ميں کانوں ميں رُوئ ٹھونس کر بيٹھ گۓ ہيں کيا ہم ان آوازوں سے کان بند کرکے جی پائيں گے دين کی طرف اور رجُوع کريں گے(انشاءاللہ)يا خُدانخواستہ دين سے برگشتہ ہو جائيں گے اللہ نا کرے اللہ نا کرے اللہ تعاليٰ مُجھے مُعاف کرے اور ہميں اس گُونگی بہری اور اندھی کھائ سے نکال کر صرف اپنے لۓ سوچنے والا نا بناۓ،آمين
کيا صرف اپنے لۓ زندگی مانگنا ہی ہماری ميراث ہے يا تُو کون ميں کون کے مصداق اتنے ٹُکڑوں ميں بٹ گۓ ہيں کہ اپنی پہچان کھو بيٹھے ہيں اور پھر بھی مُطمئن ہيں صرف اس وجہ سے کہ ہم تو محفُوظ ہيں نا ہمارا گھر،ہمارے بچے ،ہماری بيوی يا شوہر يا ہمارے مُلک کو تو کُچھ نہيں ہو رہا ليکن ياد رہے کہ پالا ايسے دُشمن سے پڑا ہے جو ايک کے بعد ايک کر کے نشانہ بنا رہا ہے کيُونکہ ہم اتحاد کی رسّی کو دانتوں سے کھول کر الگ الگ ہو چُکے ہيں اور ايک ايک کو مارنا تو بہت آسان ہُوا کرتا ہے بہ نِسبت اتحاد کے گٹھے ميں بندھے ہونے کے،ليکن شايد ہم اس وقت اپنے اپنے بچاؤ کی دوڑ ميں اتنے مگن ہو چُکے ہيں کہ احساس ہی نہيں کہ کسی بھی وقت اپنی گردن بھی قابلِ گرِفت آ سکتی ہے اے کاش ہم سوچنے والے بنيں ليکن ہم نہيں سوچتے نا جانے کب سوچيں گے ،تب جب پانی سر سے گُزر چُکا ہوگا اور فائدہ ندارد
زمرہ : آس پاس, تجزيہ, حالات حاضرہ | 4 تبصرے »