21 August 2009

bismillah arahman alraheem

Image and video hosting by TinyPic

4 تبصرے »

7 February 2010

اپنے اپنے دُکھ

(((کُچھ عجیب سی بے چینی میں ميں نے سٹاف سے ایک دو بار پوچھا کہ ابُو سو رھے ھیں نا ؟سٹاف نے تسلی دی کے ھاں۔۔ لیکن کیا معلوم تھا کے ابو ھم سب سے بِچھڑنے جا رھے تھے ھمیشہ ھمیشہ کے لیے۔۔ ان کے ماتھے اور سر پر مُسلسل ھاتھ پھیر رھا تھا، ایسے محسوس ھو رھا تھا جیسے ابو کو سکُون مِل رھا ہے۔ زیادہ تکلیف برداشت نھیں کرسکتےتھے، تھوڑے دل کے تھے نا! لیکن اِس وقت جیسے اِنھیں کویٔ تکلیف نا تھی۔ ھونٹ مُسلسل ھِل رھے تھے نا جانے کیا پڑھ رھے تھے، اِس وقت تک بھی خیال نا آیا کے کیا ھونے جارھا ھے؟ پِھر اِک لمھے محسُوس ھُوا جیسے سانسوں نے ساتھ چھوڑ دیا ابُو کا۔۔۔ ڈاکٹر نے میرے کاندھے پہ ھاتھ رکھا اور بڑے اَرام سے بول دیا سوری، لمحوں میں ھم نے ایک شفیق باپ کو ھمیشہ ھمیشہ کے لیے کھو دیا! پتا نھیں اس وقت رب تعالٰيٰ نے کیسے ضبط کا ھوصلہ دے دیا۔ کوئی دبی دبی سی سسکی. ضبط کرنے کے باوجود نِکل آ نے والا آنسو. کچھ بھی تو نہیں۔ شاید وہ لمھات کھبی نا بھلا پاوۡں ذھن سے۔۔۔

اَج دو مھینے ھونے کو ھیں ابو کو ھم سے بِچھڑے ہُوۓ، بھت بار دل نے چاھا کے کچھ لکھُوں، پتا نھيں کيُوں نا لِکھ پایا، شاید ھِمّت نا ہُوئ اور آج اگر ہِمّت کر رھا ہُوں تو يہ سوچ کرکہ کیا معلُوم کل اگر لِکھنا چاہُوں اور لِکھ نا پاؤُں۔۔

کھبی سوچا ناتھا ابُو ھم سب کو اِتنا جلد چھوڑ کر چلے جائيں گے۔۔ اب بھی یقین نھیں آتا۔ لیکن حقیقت یھی ھے کہ ہاں ابُو ھمیں ھمیشہ ھمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلے گۓ۔۔ شاید دِل کی کیفیت کبھی بھی قلم سے بیان نا ھو سکے۔۔لیکن یھی زندگی ھے اور یھی زندگی ھے تو کیسی ہے يہ زندگی ھے پھر!

بہُت سے لوگوں کو اپنے آس پاس سے رُخصت ھوتے دیکھا، لیکن جو دل کی کیفیت اب جیسی ھے وہ پھلے کھبی نا تھی، اور شاید ھو بھی نا سکتی تھی، ایسے لگتا ھے جیسے زندگی ختم سی ھے، خوشیوں کو جیسے زنگ سا لگ گیا ھے۔ کسی چیز کی خواہش باقی نا رھی۔ کھبی ہنسنے لگو تو اچانک خیال آتا ہے کے کيُوں ہنس رھے ھو!

ابُو جان اور ھم سب بیٹوں میں تمام عُمر اِک فاصلہ سا رھا، جو شاید ھر باپ کی فِطرت بھی ھوتا ھے اور ضرُورت بھی اپنی اولاد کی بھتری کی خاطر جو کے ھم اس وقت سمجھ نھیں پاتے۔ کاش کاش وہ وقت پھر سے لوٹ آۓ، کاش وہ شفقت بھرا ڈر پھر سے لوٹ آۓ جو ھر وقت ھمارے اُوپر ھوتا تھا۔ لیکن اب کھاں سے ؟

غُصّے کے جِتنے تیز اندر سے اتنے ھی نرم دل تھے۔ نھایت سادہ زندگی بسر کي،ربّ تعالٰيٰ ابُو جان کو ھمیشہ اپنی رحمتوں کے ساۓ میں رکھے اور قبر میں حضُور کی زیارت نصیب فرماۓ۔ (آمین)

ہاۓ نھیں چین آتا، بہُت خاموشی سے چلے گۓ۔ کاش میں کُچھ کرسکتا۔ لیکن رۡب تعالٰی کے آگے کِسی کی نہی چلتی، بےبس ھے اِنسان! جو بات وہم وگُمان میں نہ تھی وہ ڈاکٹر نے صرف تین مِنٹ ميں بول دی۔

ھم بیٹوں سے ھمیشہ گلہ رھا کہ گاؤں نھیں جاتے، اور اپنے جانے کے بعد ھم سب کو گاؤں سے ایسے منسوب کر گۓ جیسے ھم سب کا جینا مرنا اِسی گاؤں کی مِٹی کے ساتھ ھے۔ ابُو کی وصيّت کے مُطابِق اُنھیں اِسی قبرستان میں سپُردِخاک کیا گیا جِدھر دادا، دادی کی قبر ھے۔ چاچا بتاتے ھیں ابُو چھوٹے ھوتے اِسی قبرستان میں کھیلا کرتے تھے، جِدھر ابھی ابُو کی قبر ھے۔ واہ رے مولا تیریاں تو ھی جانے۔۔۔

ربّ تعالٰيٰ کے پاس جانے سے چار دِن پھلے صُبح صویرے بُخار مین لیٹے ھوۓ تھے۔آنکھوں میں آنسو تھے۔ میں اُن کے پاؤں دبا رھا تھا، کھنے لگے آج بی بی بھت یاد آ رھی ھیں۔ کیا معلوم تھا اُنھین کہ وہ بی بی ھی سے ملنے والے ھيں
اب تو یہ گُمان ھوتا ھے جیسے زِندگی موت کی طرف دوڑے جا رھی ھے۔ وُہ بچہ جو کل تک اپنے ماں باپ کا دُلارا تھا، اپنے گاؤں میں کھیلا تھا، اپنی ماں کی گود میں سوتا تھا، اسے کؤی تکلیف ھوتی تو ماں کی گود اسے ساری تکلیفیں دور کر دیتی۔ وُہ بچہ اپنی ساٹھ سالہ زِندگی گُذار کر اِس دُنیا سے رُخصت بھی ھوگیا۔ اِس گاؤں کی مٹی کو چومنے کو دِل کرتا ھے۔۔

بہت خُوش نصیب ھیں ھم کہ ھمیں ابُو جان جیسا نیک،شفیق باپ ملا۔ لاکھوں، کروڑں، دُعائيں ابُو جان کے لِۓ۔ رب تعالٰيٰ ھمیشہ انہں اپنی رحمتوں کے ساۓ میں رکھے۔۔

بہت عاشقِ رسُولﷺ تھے۔ درُودِ پاک سے بہت پیار تھا۔ پڑھنا لِکھنا روزانہ کا معمُول تھا۔ رب تعالٰيٰ اِس مُحبت اور محنت کے صدقے ابُو جان کی بخشش کرے اور آقاۓ دو جہاںﷺ کی شفاعت اور زیارت نصیب کرے۔

رب تعالٰيٰ سب کے والدین کو اپنی اولادوں کے سروں پر ہمیشہ قائم و دائم رکھے، اُن سے بِچھڑ کر سچا اور پکّا رِشتہ دُنیا میں کوئ نہيں اُن کے بغیر دُنیا بے معنی اور بے مقصد ھے۔

اے چشمِ فلک اے چشمِ زمیں ہم لوگ تو پھر آنے کے نہیں ..
دو چار گھڑی کا سپنا ہیں دو چار گھڑی کا خواب ہیں ہم ..
کیا اپنی حقیقت کیا ہستی’ مٹی کا ایک حباب ہیں ہم ..
دو چار گھڑی کا سپنا ہیں دو چار گھڑی کا خواب ہیں ہم۔۔)

کُچھ وقت پہلے ميرے ايک بھائ عِرفان نے ميری اِس پوسٹ پر اپنے ابُو کی وفات کا ذِکر کيا تھا اُن دِنوں ميں پہلے اکرم صاحِب کے آپريشن کی وجہ سے اور اُس کے فوری بعد اپنی کافی پُرانی تکليف کے لِۓ اچانک ميجر آپريشن کی تشخيص ہو جانے کی وجہ سے کُچھ گھبرائ ہُوئ بھی تھی پِھر ہر دِن بڑھتی تکليف کی وجہ سے آنے والے دِنوں کے اُن کاموں ميں مصرُوف ہو گئ جو شايد بعد ميں کافی دِنوں تک نا کر پاتی ،ايسے ميں نا ميں عِرفان کو جواب دے سکی نا ہی اُنہيں تسلی کے لِۓ دو لفظ کہہ سکی جِس کے لِۓ ميں نے سوچا تھا کہ ايک الگ سے پوسٹ لِکُھوں گی
ليِکِن ہُوا کيا؟
کُچھ بھی نا کر سکی اور اب جيسے ہی فروری شُرُوع ہُوا وُہ پيارے جان سے پيارے جِن کے مُتعلِق ہم کِتنے آرام سے سوچتے ہيں کہ بس ہمارے ساتھ تو يہ کبھی نہيں ہو سکتا کيُونکہ ہم تو شايد دُنيا سے الگ کوئ مخلُوق ہيں جِنہيں کبھی کُچھ نہيں ہو سکتا،اور جب ايسا ہو جاتا ہے تو ہم صحيح معنوں ميں آسمان اور زمين کے درميان لٹکتی ہُوئ کوئ خلائ مخلُوق سا پاتے ہيں خُود کو کيُونکہ ماں باپ کا کوئ بدل ہو ہی نہيں سکتا آسمان کا وُہ تُحفہ جو سبھی کو بِلا تخصيں ملتا ہے اِس ميں کِسی چھوٹے بڑے ،امير غريب کی امارت اور غُربت کا مُقابلہ نہيں ہوتا کہ يہ وُہ ميٹھا ميوہ ہے جو سبھی کا اِنعام ہوتا ہے اللہ تعاليٰ کی طرف سے
آج ابُو کو گۓ بارہ سال ہو گۓ ليکِن کيُوں کل کی بات لگتی ہے؟ ايسے ميں مُجھے جب عِرفان کا اپنے اِس بلاگ پر لِکھا تبصرہ ياد آيا تو سوچ آئ کہ اُس کا زخم تو ابھی بِالکُل تازہ ہے کيسے کيسے زخم کچوکے لگاتا ہوگا ميں بِالکُل لِکھ نہيں پا رہی کہ آنکھوں کے سامنے اپنے ہوش سے لے کر اُن کے جانے تک کی ہر گھڑی ،ہر لمحہ فِلم کی طرح صاف دِکھائ دے رہا ہے

پيارے ابُو جی

ماں پياری ماں

ميری جان ميری امّی

وُہ ايک دِن

4 تبصرے »

6 February 2010

شہادت

ميراخُوں بہا؟
”تُو شہيد ہے”
پۓ دِل ميرا مُقدمہ،ميرا فيصلہ؟
”تُو شہيد ہے”
”ميرے قاتِلوں کو کوئ سزا”

”تُو شہيد ہے”
”ہو بيان قتل کا ماجرا”
”تُو شہيد ہے”
ميرا ڈُوبا خُون ميں پيرہن
ہے عقيدتوں کے لمحوں ميں گُم
سبھی قتل گہ کی نِشانياں
کہيں زائِرين ميں کھو گئيں
وُہ جو داغ تھے ترے خُون کے
اُنہيں آنسُوؤں نے مِٹا ديا
ترے وارثوں کی تسليوں کو يہ اِہتمامِ جديد ہے
”تُو شہيد ہے”
(مُحمد عُثمان جامعی کی يہ نظم کِتنی حسبِ حال ہے کہ پڑھ کر بے اِختيار آنکھيں بھر آئيں کہ ہم نے مزہب کو بھی کيسے کيسے اِستعمال کرنا شُرُوع کر ديا ہے)

3 تبصرے »

3 February 2010

بلاگ کی دُوسری سالگِرہ

وقت کِتنی جلدی اور تيزی سے گُزرتا ہے وُہ جب گُزر رہا ہو تو پتہ نہيں چلتا ليکِن کِسی خاص وقت يا تاريخ پر جب پلٹ کر ديکھتے ہيں تو حيرانگی ہوتی ہے کہ ارے اِتنا وقت گُزر چُکا ہے کل کی ہی بات ہے جب شگُفتہ کے کہنے پر اپنے دِل کی کہنے کو بلاگ بنايا تھا اور آج دوسال ہو چُکے ہيں بلاگ بناۓ ہُوۓ، يعنی آج ميرے بلاگ کی دُوسری سالگِرہ ہے سالگِرہ تو دو فروری کو تھی ليکِن ابھی جيسے ہی ياد آيا تو اگلی تاريخ آنے والی تھی جلدی جلدی کرتے کرتے بھی اگلی تاريخ آ گئ يعنی وقت کبھی کِسی کا اِنتِظار نہيں کرتا
اب اِس پِچھلے سال ميں کيا کُچھ کيا يا نہيں کيا يا پِچھلے دوسالوں ميں کيا کارنامہ انجم ديا يہ آپ مُجھے بتائيں گے کيُونکہ مُجھے تو بس يہی لگتا ہے کہ بس دِل کا کہا مانا ہے اور بس وُہی لِکھا ہے تو کيا کہيں کہ يہی دِ ل کی کہنے کو ہی تو بنايا تھا بلاگ

20 تبصرے »

30 January 2010

معزرت خواہ ہُوں

<a href="“>

بہُت ہی پياری بہن شگُفتہ نے آج مُجھ سے ايک شِکوہ کيا ہے اور آغاز کُچھ ايسے کيا کہ ميری آپ سے لڑائ ہو جاۓ گی ،مُجھے آپ سے جھگڑا کرنا ہے اور ميں حسبِ معمُول ڈر گئ ،کہ ميں کِسی کی بھی ناراضگی برداشت نہيں کر سکتی خواہ ميرا قصُور ہو يا نا ہو ايسے ميں مُجھے معزرت کرنے ميں کوئ شرم نہيں آتی بلکہ اگلا بندہ مُجھ سے اگر ناراض ہے تو يہ تکليف ميں برداشت نہيں کر سکتي، اور شگُفتہ نے صِرف يہ کہا کہ آپ نے ميرا ذِکر کيُوں نہيں کيا تو پياری بہنا ميں بے حد معزرت خواہ ہُوں کہ آپ کا نام لينا بُھول گئ اور اب آپ کو منانے کا يہ ايک طريقہ ہی مُجھے سمجھ ميں آيا ہے ،ليکِن کِتنی خُوشی کی بات ہے کہ اِتنے بہُت سے لوگ اگر آپ سے پيار کرتے ہوں اِتنے پيار کے قابِل تو نہيں ہُوں کہ يہ بھي تو پيار کا ايک انداز ہے کہ شِکوہ بھی تو اپنوں سے ہی کيا جاتا ہے نا ، جب حِجاب کے ايس ايم ايس اور شگُفتہ کا فون حال پُوچھنے کے لِۓ آۓ تو ميں ہی سمجھ سکتی ہُوں ميں کِتنی خُوش تھی اُميد ہے شگُفتہ اب آپ کی ناراضگی دُور ہو گئ ہو گی

9 تبصرے »

29 January 2010

جزاک اللہ

اپنی اِس پوسٹ کا اور آپ سب کی مُحبتوں کا جواب دينے ميں گو کافی ليٹ ہو گئ ہُوں

صحت يابی کے لِۓ دُعا

ليکِن اِس سب کے پيچھے جو وجہ تھی وُہ ظاہِر ہے سبھی کے عِلم ميں تھی کہ ميں ابھی تک سيدھے ہاتھ کا صحيح طرح سے اِستعمال نہيں کر سکتی گو اِن سب حالات کی وجہ سے اُلٹے پاتھ کی اچھی خاصی پريکٹس ہو گئ ہے ليکِن يہ بھی بات ہے کہ عادت تو عادت ہی ہوتی ہے ايسے ميں کبھی کبھار غلطی سے يا عادت کے ہاتھوں مجبُور ہو کر سيدھے ہاتھ سے جلدی سے کُچھ کام کر لُوں يا کوئ چيز پکڑ ليتی ہُوں تو بس پِھر چودہ اٹھارہ سبھی طبق روشن ہو جاتے ہيں سو ايسے ميں اکرم صاحِب نے بہُت سختی سے منع کيا ہےکہ براۓ مہربانی اپنے شوق کو کُچھ دِن کے لِۓ بِالکُل ويسے ہی ذرا طاق پر رکھ دو جيسے باقی کاموں کو رکھا ہُوا ہے سو کہنا تو ماننا ہی پڑتا ہے کيُونکہ جب درد سے بُرا حال ہو تا ہے تو آنکھوں سے لگتا ہے نظر آنا بھی بند ہو رہا ہے ايسے ميں پريشانی کا سامنا تو اُنہيں ہی کرنا پڑتا ہے نا جيسا کہ دو تين روز پہلے بس بہُت دِل چاہنے پر چند روٹياں بنا ليں کہ تنگ آگئ تھی چاول اور خُبز کھا کھا کر اور بس پِھر جو طُوفانی رات گُزری اور گُزاری ہے تو توبہ کر لی ہے نا صِرف ميں نے بلکہ باقی سب نے بھی اور بقول حِجاب بُھگتيں اب دِل چاہنے کا مزہ
سو تفصيل اِس سارے اجمال کی اِس لِۓ لِکھی ہے کہ آپ سب کا شُکريہ ادا کرنا مُجھ پر قرض تھا اور ميرا فرض تھا ليکِن اب ميں نے بھی يہ سوچ ليا ہے کہ کرنا کيا ہے آہِستہ آہِستہ روزانہ تھوڑا تھوڑا لِکھ کر محفُوظ کرتی جاؤں گی تا کہ آ پ سب کا ايک ايک کر کے جواب دے سکُوں
سب سے پہلے تو حِجاب ميں آپ کی شُکر گُزار ہُوں جِس نے ميری طرف سے دُعا کا کہہ کر مُجھے اپنے بہن بھائيوں کی مُحبتوں کا نا صِرف زير بار کيا بلکہ مُجھے اپنے آپ پر فخر کرنے کا موقع بھی فراہم کيا کہ ميرے اِتنے پيارے بہن بھائ جب ميرے لِۓ دُعا گو تھے تو ڈر کيسا؟

سب سے پہلے پياری بہنا اسماء کا دُعائيہ پيغام تھا
اسماء پيرس لکھتے ہیں: || 16 Dec 2009 || 11:07 pm # ترمیم

کامياب آپريشن پر مبارکباد اور اللہ پاک سے جلد از جلد صحت کی بحالی کی دعا ہے

شُکريہ بہُت بہُت پياری اسماء دُعا کے لِۓ

خرم لکھتے ہیں: || 17 Dec 2009 || 12:20 am # ترمیم

اللہ کریم بہت جلدی کامل شفاء عطا فرمائے بہنا کو۔

پيارے بھائ خُرم جلد صحتيابی کی دُعا کا بہُت بہُت شُکريہ

محمداسد لکھتے ہیں: || 17 Dec 2009 || 12:46 am # ترمیم

وعلیکم السلام

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں بالخصوص آپ کو اپنے خصوصی حفظ و امان میں رکھے۔ اور آپ جلد از جلد مکمل صحتیاب فرمائے۔
آمین

بہُت پيآري دُعا کے لِۓ اسد بھائ شُکر گُزار ہُوں

خرم شہزاد خرم لکھتے ہیں: || 17 Dec 2009 || 12:47 am # ترمیم

انشاءاللہ اللہ تعالیٰ جلد سے جلد صحت کاملہ عطا فرماے آمین انشاءاللہ آپی آپ پرشان نا ہو انشاءاللہ سب بہتر ہو جائے گا انشاءاللہ حجاب آپی آپ آپی کے بارے میں یہاں خبر دیتی رہنا پلیز

حِـجاب نے اپنا فرض بہُت اچھی طرح ادا کيا خُرم ميرے بھائ اور جب آپ سب اِتنے پيارے بہن بھائيوں کی دُعائيں ساتھ ہوں تو اور کيا چاہيئے

عمر احمد بنگش لکھتے ہیں: || 17 Dec 2009 || 1:00 am # ترمیم

مبارک ہو، اللہ آپ کو جلد از جلد صحت کاملہ سے نوازے

عُمر بہُت بہُت شُکريہ

زین لکھتے ہیں: || 17 Dec 2009 || 1:24 am # ترمیم

اللہ تعالیٰ شاہدہ آپی کو صحت کاملہ عطاء‌فرمائے۔ آمین

شُکريہ زين

میرا پاکستان لکھتے ہیں: || 17 Dec 2009 || 1:48 am # ترمیم

کامیاب آپریشن کا سن کر خوشی ہوئی۔ اللہ آپ کو جلد سے جلد مکمل صحت یاب کرے۔ اب تو آپ ہماری فیملی ممبر ہیں اور آپ کو دعاؤں میں یاد رکھنا اب ہمارا فرض ہے۔

ميرا پاکِستان

بھائ دُعاؤں ميں ياد رکھنے کا بہُت بہُت شُکريہ آئيندہ بھی اپنی دُعاؤں ميں ياد رکھئيے گا

sadia saher لکھتے ہیں: || 17 Dec 2009 || 2:08 am # ترمیم

سلام شاھدہ

دعا ھے اللہ پاک آپ کو جلد مکمل صحت عطا کرے آمین
اور آپ اپنا بلاگ مزے مزے کے کھانوں سے سجائیں

سعديہ ضرُور جلد ہي بہُت سے اچھے کھانوں کی ترکيبوں کے ساتھ حاضِر ہوں گی بس ذرا ہاتھ کام کرنے لگ جاۓ ،ابھی تو سب کام اُلٹے ہاتھ سے ہو رہے ہيں

سید محمد حنیف شاہ لکھتے ہیں: || 17 Dec 2009 || 8:13 am # ترمیم

اللہ شاھدہ صاحبہ کو صحت کاملہ عنایت فرمائے اور ان کی مشکلیں آسان فرمائے آمین

شُکريہ حنيف بھائ اِتنی پياری دُعاؤں کے لِۓ

عنیقہ ناز لکھتے ہیں: || 17 Dec 2009 || 8:21 am # ترمیم

خدا، آپکو صحت و تندرستی عطا فرمائے۔

جی عنيقہ دُعاؤں کی ضرُورت تو ہر اِنسان کو ہر وقت رہتی ہے

افتخار اجمل بھوپال لکھتے ہیں: || 17 Dec 2009 || 9:26 am # ترمیم

اللہ بہتری کرنے والا ہے

جی انکل جی اللہ ہی سب کام آسان کرتا ہے اور اُسی نے مُجھے اِس مُشکِل گھڑی ميں طاقت سے نوازا ہے شُکر اللہ کا

عمار ابنِ ضیاء لکھتے ہیں: || 17 Dec 2009 || 10:13 am # ترمیم

جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔

شُکريہ عمار بيٹے بہُت بہُت

عبداللہ لکھتے ہیں: || 17 Dec 2009 || 11:12 am # ترمیم

اللہ آپکو اپنی رحمت کاملہ سے شفائے کاملہ اور عاجلہ عطا فرمائے آمین!
آیت کریمہ کا ورد رکھیئے انشاءاللہ جلد صحت یابی نصیب ہوگی!
دعاگو

شُکريہ عبدُاللہ بِالکُل اللہ کی رحمت سے ہی سبھی کام آسان ہوتے ہيں آيت کريمہ کا وِرد کرتی ہُوں ياد دہانی کے لِۓ بھی شُکر گُزار ہُوں جزاک اللہ

خرم شہزاد خرم لکھتے ہیں: || 18 Dec 2009 || 2:42 am # ترمیم

حجاب آپی کوئی خبر شاہدہ آپی کی

حجاب لکھتے ہیں: || 18 Dec 2009 || 11:14 pm # ترمیم

خرم ، شاہدہ آپی آج گھر آ گئی ہونگی اور جب تک بازو مکمل ٹھیک نہیں ہوتا نیٹ سے چھٹی رہے گی آپ سب کا شکریہ کہا ہے آپی نے اور دعا کے لیئے کہا ہے کہ جلد بازو ٹھیک ہو اور وہ نیٹ پر آئیں پہلے کی طرح ۔۔ شکریہ

پيارا بھائ خُرم اور حِجاب دونوں نے ہی ايک دُوسرے کو جواب دے ديا ہے ميں آپ دونوں کے ہی کنسرن سے سرشار ہُوں اللہ تعاليٰ خُوش رکھے،آمين

خرم شہزاد خرم لکھتے ہیں: || 22 Dec 2009 || 1:49 am # ترمیم

اللہ تعالیٰ میری آپی کو جلد سے جلد صحتِ کاملہ عطا فرمائے آمین کیا آپ کا ان سے رابطہ ہے کتنے دن لگيں گے کتنے دن آرام کا کہا ہے ڈاکٹر صاحب نے آپ کا رابطہ ہو تو میرا سلام پہنچا دیجئے گا

خُرم مُکمل آرام ميں پانچ سے چھ ماہ لگيں گے ڈاکٹر کا کہنا ہے ابھی فزيو تھراپی ہو رہی ہے جِس سے بازُو کی تھوڑی بہُت
movement
ہو رہي ہے ليکِن ابھی پُوری طرح ہِلانا مُمکِن نہيں کيُونکہ کندھے کے جوڑ ميں جو ہُک لگايا گيا ہے اُسے اپنی جگہ بنانے کے لِۓ کُچھ وقت درکار ہوگا اور اُسی کی وجہ سے بازُو کو اچھی طرح ہِلا نہيں سکتی آپ سب کی دُعاؤں سے اِنشاء اللہ جلد ہی بہتری ہو جاۓ گی

امید لکھتے ہیں: || 24 Dec 2009 || 1:35 pm # ترمیم

اللہ تعالی سے بہت ساری دعائیں کے آپ جلد از جلد صحت یاب ہو جائیں امین
امید
جِس کا نام ہی ماشااللہ اِتنا پيارا ہو
اُميد، تو ظاہِر ہے باتيں بھی پياری ہی ہوں گی شُکريہ بہُت بہُت

امن ایمان لکھتے ہیں: || 24 Dec 2009 || 6:09 pm # ترمیم

السلام علیکم شاہدہ آپی،

اتنی پیاری سی محبتیں بانٹنیں والی شاہدہ آپی مجھے یہ پوسٹ پڑھ کر اپنی بےخبری پر بڑا غصہ آیا تھا۔۔۔اللہ تعالیٰ آپ کو جلدییییییییییییییییی سے بہت اچھا کردیں آمین۔۔۔آپ ابھی مکمل آرام کیجئے گا۔۔اتنے سارے لوگوں کی دعائیں جس کے ساتھ ہوں وہ بڑا خوش قسمت ہوتا ہے۔۔۔اور آپ ماشاءاللہ لکی ہیں۔۔۔بلاتفریق پیار بانٹتی ہیں۔۔۔بدلے میں بھی صرف پیار ہی پیار ملتا ہے۔۔۔ایک بار پھر میری دعا ہے۔۔اللہ تعالیٰ جلد اور مکمل صحتیابی عطا فرمائیں آمین۔

بہُت ہی پياري سي امن ايمان يعني ارضان جب اِتنے پيار سے حال پُوچھو گي تو کون جلدي ٹھيک نہيں ہونا چاہے گا بلکہ ميرا تو دِل ابھي اپني اور خاطر کروانے کو چاہ رہا ہے کہ اِتنے پيارے جِس کے آس پاس ہوں اُس سے بڑا خُوش قِسمت بھلا اور کون ہوگا اور ميں وُہ خُوش قِسمت ہُوں اللہ تيرا لاکھ لاکھ اِحسان ہے ہر بات کے لِۓ ،
بہُت سارا پيار آپ کے لِۓ بھي اور ننھي مُني بٹيا کے لِۓ بھي ميں نے اُس کي تصوير سامنے لگا رکھي ہے تاکہ ديکھتي رہُوں ماشاءاللہ

عمر احمد بنگش لکھتے ہیں: || 31 Dec 2009 || 12:42 am # ترمیم

اب کیسی طبیعت ہے آپی آپ کی اللہ جلد از جلد آپ کو تندرستی عطا فرمائے

عُمر بھائ اللہ کا بہُت اِحسان ہے اب کافی بہتر ہُوں شُکريہ دُعا کے لِۓ اور ياد آوري کا بھي

اسماء پيرس لکھتے ہیں: || 31 Dec 2009 || 9:43 pm # ترمیم

يہ کيا بی بی سی پر تبصرہ اور پھر اکا دکا بلاگوں پر بھی مگر اپنے بلاگ سے غائب ، کم از کم خيريت کی اطلاع ہی دے ديں بازو اب کيسا کام کر رہا ہے اور آپ سب کو نيا سال مبارک

اسماء بی بی سی پر اور باقی ايک آدھ اور جگہ پر تبصرہ کرنے کي وجہ وُہي ہے آپ جانتي ہي ہوں گي کہ بس چسکہ ہے لِکھنے کا اور باقی ميں نے وجہ اُوپر لِکھ دی ہے کہ واقعی ابھی لِکھ نہيں پاتی اور اکرم نے بھی ابھی منع کيا ہے کہ بازُو کو آرام دو زيادہ دير بيٹھنے سے بھی کندھا دُکھتا ہے
نيا سال آپ کو بھی مُبارک ہو
ايک بار پِھر سب بہن بھائيوں کا شُکريہ جِنہوں نے اپنی دُعاؤں کے قابِل سمجھا اور ايک بات بتاؤں شُکر گُزار تو ميں اپنے رب کی پہلے بھی بہُت رہتی تھی ليکِن اب اِس آپريشن کے بعد سب اپنوں کی اور اپنے جِسم کے ہر عُضو کی سلامتی پر اِتنا شُکر گُزار رہتی ہُوں ہر دم کہ کيا بتاؤں؟
جب صِرف ايک کروٹ بھی نہيں سو پاتی اور تکيہ سے ٹيک لگا کر تھوڑا سکُون مِلتا ہے تو شُکر کرتے نہيں تھکتی کہ اللہ تعاليٰ تُونے مُجھے اِتنے وقت اِتنا صِحت مند بھی تو رکھا ، جب نِوالہ بھی نہيں توڑ پاتی تھی اور بيٹی يا مياں صاحِب نِوالے بنا کر پہلے مُجھے کِھلاتے تھے اور بعد ميں خُود کھاتے تھے تو شُکر کے سجدے ختم نہيں ہوتے تھے اِن کی مُحبتوں پر اور اِس بات پر کہ اللہ تعاليٰ کا کِتنا اِحسان ہے ہم جِس بات کو معمُولی سمجھتے ہيں ہمارے جِسم کا ہر نِظام کيسے جُڑا ہُوا ہے کبھی سوچ سکتے ہيں آپ کہ کندھے کا آپريشن ہے اور آپ نِوالہ توڑيں اور اُس کا لِنک کندھے کے جوڑ تک جاتا ہے ،آج ذرا کر کے ديکھيں ہاتھ کی اُ نگليوں کو نِوالہ بنانے کی شکل ميں اور ديکھيں تکليف کہاں ہوتی ہے؟
کيا ہم اپنے جِسم کے ہر ہر حِصّے کی بحالی کے لِۓ اُتنے مشکُور ہوتے ہيں اُس ذات کے، سر سے لے کر پاؤں تک اگر کوئ ايک بھی عُضو نا ہو يا تکليف ميں ہو تو کيا قيامت نہيں گُزرتی ہم پر اور کيا ہم اپنے ربّ کے شُکر گُزار بندے ہيں جِس نے ہميں ہر ہر نِعمت سے سر فراز کيا ،کيا اِس شُکر گُزاری کے عمل کو سمجھنے کے لِۓ ہميں کِسی تکليف کا اِنتِظار کرنا ضرُوری ہے ؟ذرا آج سوچئے گا ضرُور
جزاک اللہ
اللہ تيرا شُکر ہے
يہ الگ بات ہے کہ قِسطوں ميں لِکھنے کا سوچا تھا اور پُورا ہی لِکھ گئ ہُوں اب ديکھيۓ کيا ہوتا ہے کہ طُوفان کے آثار تو شُرُوع ہو چُکے ہيں ،خير کوئ بات نہيں اللہ بہتری کرنے والا ہے

14 تبصرے »

9 January 2010

امن کی آشا

<a href="“>

دُعا ہے کہ امن کی يہ آشا پُوری ہو اور نا صِرف ہمارے مُلک ميں بلکہ پُوری دُنيا ميں امن کی فاختہ پر فشاں ہو يہ ميرا خواب ہے ،خواہِش ہے ،خُوشی ہے

8 تبصرے »

31 December 2009

آئيں کُچھ کما ئ کر ليں پليز

نۓ سال کی آمد چند لمحوں ميں ہو جاۓ گی اور ميں صِرف آپ سب کو اپنی اِس دُعا ميں شامِل کرنا چاہتی ہُوں کہ آئيں مِل کر کوئ ايک ايسی کمائ کر جائيں جو ہمارے جانے کے بعد بھی ہمارے لِۓ راہِ نجات ہو سکے، کہنے کو بہُت کُچھ ہے اور دِل بھی بہُت چاہ رہا ہے کہنے کو ليکِن اُلٹے ہاتھ سے اِس سے زيادہ لِکھنا مُمکِن نہيں ہے

8 تبصرے »

16 December 2009

صحت یابی کے لیئے دعا

السّلامُ علیکُم بلاگرز میں “حجاب ” شاہدہ آپی کے پیغام کے ساتھ ۔۔۔

آپ سب کے لیئے شاہدہ آپی کا پیغام ہے کہ آپ سب اُن کی جلد مکمل صحت یابی کے لیئے دعا کریں ، شاہدہ آپی کا کل آپریشن ہوا ہے جو اللہ کے فضل و کرم سے اور آپ سب کی دعا سے کامیاب ہوا ہے اور اب آپی خیریت سے ہیں ، آپ سب دعا میں یاد رکھیں تاکہ جلد مکمل صحت یاب ہو کر آپی پھر سے نیٹ یوز کریں اور آپ سب کے جو تبصرے یہاں اس پوسٹ پر ہونگے اُس کا جواب دیں شکریہ
میری بہت ساری دعائیں شاہدہ آپی آپ کے لیئے اللہ آپ کو جلد مکمل صحت یاب کرے آمین ۔۔

21 تبصرے »

14 December 2009

dua request

Please pray for my mom, she is gonig for operation tomorrow.
Earuj akram.

2 تبصرے »

14 December 2009

دُعا کيجۓ

ايک بار پِھر آپ سب سے وُہی بات کہنا چاہتی ہُوں کہ
دُعا کيجۓ
کل صُبح ميرا کندھے کا آپريشن ہے
arthroscopy
کے ذريعے ہے آپريشن ليکِن آپريشن سے زيادہ بعد کے وقت کا خيال ستا رہا ہے آپ سب بہن بھائيوں کی دُعاؤں کی ضرُورت رہے گی سو دُعا کيجۓ کہ ميں اِس مُشکِل وقت سے بخُوبی گُزر جاؤں
مُکمل صحتياب ہونے تک اِجازت چاہُوں گی
دُعاؤں ميں ياد رکھيۓ گا

14 تبصرے »

اگلی »