خواب ايک ايسا عالم جس سے ہر کوئ گُزرتا ہے کُچھ لوگ جاگتے ميں بھی خواب ديکھتے ہيں ليکن ميں آج جن خوابوں کا ذکر کر رہی ہُوں وہ وُہی خواب ہيں جو ہم کبھی اپنے دن بھر کے بيتے حالات کو پھر سے تھوڑی بہت کمی بيشی کے ساتھ ديکھتے ہيں اور ہم اپنی خُوشی سے بعض اوقات انہی خوابوں کو اپنے مطلب کا رُوپ دے ديتے ہيںکہتے ہيں گہری نيند کے خواب ياد نہيں رہتے کيُونکہ اُس وقت ہم اور ہمارا جسم پُورے سکُون ميں ہوتے ہيں اور گہری نيند آتی بھی جبھی ہے جب آپ کا جسم پُر سکُون ہو سو جب جسم سکُون ميں ہو تو باقی باتيں کيسے ياد رہ سکتی ہيں اسی طرح ہلکی نيند کے خواب ياد رہتے ہيں کيُونکہ جسم سکُون نہيں پاتا اور قريب قريب جاگ ہی رہا ہوتا ہے ايسی حالت کے خواب ياد رہتے ہيں ميں نے يہ سب باتيں صرف اپنے ذاتی تجرُبے کی بناء پر کہی ہيں مُجھے اکثر خواب ياد رہتے ہيں کيُونکہ باوجُود کوشش کے ميں پُرسکُون نيند نہيں لے پاتی ہر طريقہ آزما ديکھا ہے دُنيا ميں ہر انسان اپنے ساتھ دُکھ سُکھ کی سو ہزار کہانياں لۓ جی رہا ہوتا ہے ليکن ميری پريشانی دگر ہے کہ ہر وہ بات جو گُزر جاۓ دل و جان پر پھر وہ ايسے حاوی ہو جاتی ہے کہ دنوں ، مہينوں نہيں بلکہ سالوں تک دل و دماغ اُس کی زد ميں رہتے ہيں مانتی ہُوں کہ يہ کوئ اچھی بات نہيں ليکن اپنے بس ميں بھی تو نہيں ہے کہ ہر دُکھ سُکھ ميں شامل ہونے کے لۓ ،سمجھانے کے لۓ ، پريشانيوں کا حل بتانے کے لۓ ،يابہن بھائيوں کی وہ باتيں جو وہ ميری پريشانی کا احساس کر کے مُجھے نہيں بتاتے ليکن ميری پياری امّی وہ آ کر سب بتا جاتی ہيں سب کُچھ اور پھر جب کافی عرصے کے بعد مُجھے علم ہوتا ہے کسی بات کا يا ميں گھبرا کر فون کرکے پُوچھتی ہُوں سب خيريت ہے نا فلاں کا کيا حال ہے تو کبھی بھائ اور کبھی بھابھی حيران ہو کر پُوچھتی ہيں آپ سے کس نے کہا ؟ اور ميرے بتانے پر کہ امّي يا ابُو خواب ميں آۓ تھے (زيادہ تر تو امّی ہی آ کر اشارہ کرتی ہيں )وہ حيران ہو کر کہتی ہيں آنٹی سے کہيں ہم آپ سے چُھپاجاتے ہيں وہ آکر بتا جاتی ہيں ، يہ سب باتيں بتا کر آپ کو بور کرنا مقصد نہيں تھا صرف يہ پُوچھنا چاہتی ہُوں کہ کيا يہ کوئ سائينس ہے يا ہمارے کانشس ميں چُھپی وہ خواہشيں جو نيند کے دوران ہميں اپنی لپيٹ ميں لے کر کبھی ہميں آئيندہ کا راستہ دکھاتی ہيں اور کبھی آنے والے وقت سے مُقابلہ کرنے کی طاقت ديتی ہيں کہ ميں انہی خوابوں سے خُوشيوں اور غموں کے معنی جاننے کی کوشش کرتی رہتی ہُوں