دردمندوں کے لۓ
Wednesday، 16 July 2008 | مصنف: shahidaakram
يہ بچہ ميرا،آپ کا يا ہم ميں سے کسی کا بھی ہوسکتا ہے پليز اسے ديکھيں پڑھيں اور بتائيں کہ ہم کيا کريں ميں يہ وڈيو پُوری نہيں ديکھ پائ کہ باوجُود پُوری کوشش اور ہمّت کے ميرے کان بار بار پُکارتی ہيلپ می کی آواز کے ساتھ اپنے آپ پر قابُو نہيں رکھ پا رہے تھے اور اب بند کر دينے کے بعد بھی ميرے کانوں ميں وہ آواز ہتھوڑے کی طرح برس رہی ہے کيا ہم بہرے ہو گۓ ہيں جو ايسی پُکاروں کے جواب ميں کانوں ميں رُوئ ٹھونس کر بيٹھ گۓ ہيں کيا ہم ان آوازوں سے کان بند کرکے جی پائيں گے دين کی طرف اور رجُوع کريں گے(انشاءاللہ)يا خُدانخواستہ دين سے برگشتہ ہو جائيں گے اللہ نا کرے اللہ نا کرے اللہ تعاليٰ مُجھے مُعاف کرے اور ہميں اس گُونگی بہری اور اندھی کھائ سے نکال کر صرف اپنے لۓ سوچنے والا نا بناۓ،آمين
کيا صرف اپنے لۓ زندگی مانگنا ہی ہماری ميراث ہے يا تُو کون ميں کون کے مصداق اتنے ٹُکڑوں ميں بٹ گۓ ہيں کہ اپنی پہچان کھو بيٹھے ہيں اور پھر بھی مُطمئن ہيں صرف اس وجہ سے کہ ہم تو محفُوظ ہيں نا ہمارا گھر،ہمارے بچے ،ہماری بيوی يا شوہر يا ہمارے مُلک کو تو کُچھ نہيں ہو رہا ليکن ياد رہے کہ پالا ايسے دُشمن سے پڑا ہے جو ايک کے بعد ايک کر کے نشانہ بنا رہا ہے کيُونکہ ہم اتحاد کی رسّی کو دانتوں سے کھول کر الگ الگ ہو چُکے ہيں اور ايک ايک کو مارنا تو بہت آسان ہُوا کرتا ہے بہ نِسبت اتحاد کے گٹھے ميں بندھے ہونے کے،ليکن شايد ہم اس وقت اپنے اپنے بچاؤ کی دوڑ ميں اتنے مگن ہو چُکے ہيں کہ احساس ہی نہيں کہ کسی بھی وقت اپنی گردن بھی قابلِ گرِفت آ سکتی ہے اے کاش ہم سوچنے والے بنيں ليکن ہم نہيں سوچتے نا جانے کب سوچيں گے ،تب جب پانی سر سے گُزر چُکا ہوگا اور فائدہ ندارد
سسٹر!
آپکا دیا ہوا لنک کام نہیں کررھا ۔ وہ پندرہ سال کا بچہ تھا جب اسے افغانستان سے گرفتار کیا گیا ۔ اس پہ امریکن آرمی کے ایک ڈاکٹر کو گرنیڈ کے فائر سے ہلاک کرنے کا الزام ہے۔ کنیڈین اخبار ُنیشنل پوسٹ’ نے مکمل اسٹوری چھاپی ہے۔ اور ویڈیو پہ کئے گئے غالباَ کنیڈین شہریوں کا ردِعمل بھی جو اور بھی چشم کشاء ہے- دل کو دکھ دیتا ہے ۔ کیا دنیا مسلم اوراینٹی مسلم میں بٹ چکی ہے؟۔ کیونکہ اگر یہ نوجوان اگر کنیڈین مگر غیر مسلم شہری ہوتا تو کیا مذکورہ اخبار کے فورم پہ رائے دہندگان کی رائے بھی یوں ہی ہوتیں۔ جیسے رائے انہوں نے ابھی دی ہیں؟۔ کچہ رائے اسطرع کی بھی ہیں کہ عمر خضر کو کنیڈا واپس بلا کر اس پہ غداری کا مقدمہ چلا کر ُعمرقید، کی سزا دی جائے ۔ عمر قید بھی اس لئے کہ کنیڈا میں غالباََ سزائے موت نہیں ہے ۔ ورنہ مذکورہ رائے دہندگان شاید سزائے موت کا مطالبہ کرتے ۔تاہم دو افراد نے باقی لوگوں سے اختلاف بھی کیا۔ جبکہ میرے علم کے مطابق عمر خضر نامی اس لڑکے اور اس کے وکلاء نے الزام کی صحت سے انکار کیا ہے۔
یو ٹیوب پہ
http://www.youtube.com/watch?v=aQHFFbD_-Pg
کنیڈین اخبار نیشنل پوسٹ پہ ویڈیو کی مکمل ٹرانسکرپشن اور لوگوں کی رائے کا لنک یہ ہے
http://network.nationalpost.com/np/blogs/posted/archive/2008/07/15/video-showing-omar-khadr-released-by-lawyers.aspx
نیشنل پوسٹ پہ خبر اس مندرجہ ذیل لنک پہ
http://www.nationalpost.com/most_popular/story.html?id=654434
بی بی سی پہ اس ویڈیو کا لنک یہ ہے
http://www.bbc.co.uk/urdu/avconsole/bb_wm_fs.shtml?redirect=fs.shtml&lang=ur&nbram=1&nbwm=1&bbwm=1&bbram=1&ms3=22&ms_javascript=true&ws_pathtostory=http://www.bbc.co.uk/go/wsindex/int/av/urdu/-/urdu/news/avfile/2008/07/&ws_storyid=080715_gitmo&bbcws=2
آپی! لنک چیک کیجئے گا ذرا۔۔۔ اس میں کوئی غلطی ہے شاید، میرے پاس چل کر نہیں دیا۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/avconsole/bb_wm_fs.shtml?redirect=fs.shtml&lang=ur&nbram=1&nbwm=1&bbwm=1&bbram=1&ms3=22&ms_javascript=true&ws_pathtostory=http://www.bbc.co.uk/go/wsindex/int/av/urdu/-/urdu/news/avfile/2008/07/&ws_storyid=080715_gitmo&bbcws=2
عمار ميں نے غلطی سے خبر کا لنک دے ديا تھا وڈيو لنک کی بجاۓ اب ديکھو يہ لنک اور پھر تبصرہ کرو
دُعاگو
شاہدہ اکرم
آپی! سچ کہوں تو اس ویڈیو پر تبصرہ کرنا بڑا ہی مشکل ہے.