آر ايس ايس فيڈ

ميڈيا کی تيزياں

ہم لوگ اور کسی چيز ميں ترقی کرپاۓ ہوں يا نہيں ليکن کُچھ مُعاملات ميں اتنی ترقی کر گۓ ہيں کہ بس ايک دُوسرے سے آگے بڑھنے کے چکّر ميں ،نمبر ون بننے کی اس دوڑ ميں نا کوئ آگے ديکھتا ہے نا پيچھے ، ليکن يہ سوچنے کی فُرصت کسے ہے اور اگر ايسے ميں کہيں کوئ غلطی ہو جاۓ تو مُعافی مانگنا يا معزرت کرنا تو درکنار شايد اسے بھی اپنا حق سمجھا جاتا ہے ،آپ کہيں گے کيا پہيليوں ميں بات کر رہی ہُوں تو بات يہ ہے کہ ميں کل سے صرف اسی اُدھيڑ بُن ميں ہُوں کہ اس سب ميں کون درُست ہے ميرا جزباتی ہو کر سوچنا يا ميڈيا کا اپنے فرائض سے غفلت برتنے کا کريہہ عمل، بہر حال پچھلے تين چار دنوں سے مشہُور شاعر احمد فراز صاحب کی بيماری کی خبريں آ رہی تھيں اور دل سے دُعا نکل رہی تھی کہ اللہ تعاليٰ خُوبصُورت شعروں کے خالق کو صحت اور تندرُستی والی طويل زندگی عطا کرے ،آمين
ليکن کل دوپہر اچانک ايک چينل سے اُن کی وفات کی خبر کی پٹی چلنے لگی ساتھ ساتھ نيچے چلتی پٹی جسے ٹِکر بھی کہتے ہيں ميں مُختلف باتيں لکھی آنے لگيں ايک دم انتہائ دُکھ کے ساتھ ساتھ يادوں اور اُن کی ہر قسم کي شاعری کی ايک طويل فلم سی چلنے لگی ذہن کے پردوں پر اور مُختلف اوقات ميں اُن کے انٹرويو جو سُنے يا ديکھے سبھی ياد آنے لگے اور دُعا کے ساتھ ساتھ ہم اُن يادوں پرباتيں کرتے جا رہے تھے خبروں کا وقت ہُوا تو باقاعدہ خبر نشر ہُوئ ليکن نيوز کاسٹر نے احمدفراز صاحب کے صاحبزادے سے آخر ميں اپنے بيان کی تصديق چاہی تو بہت حيرانگی ہُوئ کہ يہ کيا تماشہ ہے ؟ ليکن تھوڑی دير کے بعد ہی احمد فراز صاحب سے جُڑی خبر کی ترديد کر دی گئ اور ساتھ حوالہ ديا گيا کہ ہميں يہ خبر فلاں چينل سے ملی تھی اس لۓ چلا دی يہ کيا غير ذمّے داری ہے اور کيا اخلاقی ديواليہ پن ہے کہ ہم اپنی دُوکانداری چمکانے کے لۓ کوئ بھی خبر لگا سکتے ہيں اور دُکھ کی بات تو يہ ہے کہ اس پر کوئ معزرت نہيں کی گئ ،ايک لفظ شرمندگی کا نہيں ہميں سوچ کر اتنی تکليف ہو رہی ہے تو اُن کے فيملی ممبرز کو کتنا دُکھ ہو رہا ہوگا اور اب جيسا کہ خبريں آ رہی ہيں کہ اللہ کے فضل سے وہ بہتر ہيں اور پہلے سے اچھی طبيعت ہے ليکن يہ ہمارے ميڈيا والے ان کو کيا کہيں کہ جو صرف خبر کو کيش کرنا چاہتے ہيں يہ سوچے سمجھے بغير کہ ہو سکتا ہے اس کا ری ايکشن سامنے والے پر کيا ہوگا يا آپ کی اميج بھی مُتاثر ہو سکتی ہے ،آپ اس کو کيا کہيں گے کام سے آپ کی لگن يا پھر صرف اپنا نام سب سے پہلے ديکھنے کی اُمنگ،آپ کيا کہيں گے اسے؟

4 آراء برائے ”ميڈيا کی تيزياں“

  1. aqib رقمطراز ہيں: بتاريخ Saturday، 19 July 2008 بوقت 8:56 pm

    بہت درست فرمایا آپ نے۔۔۔اگر چینل کا نام بتا دیتیں تو زیادہ بہتر تھا۔

  2. shahidaakram رقمطراز ہيں: بتاريخ Friday، 25 July 2008 بوقت 12:58 am

    عاقب صاحب
    السلامُ عليکُم
    گو يہ بات اب سب کو پتہ چل چُکی ہے پھر بھی بتا ديتی ہُوں کہ ہم نے جيو پر يہ خبر ديکھی تھی اور جيو والوں نے پی ٹی وی کا حوالہ ديا تھا اللہ تعاليٰ کے فضل و کرم سے احمد فراز اب رُو بصحت ہيں ليکن ميں ابھی تک اس بات سے دُکھی ہُوں کہ ايسا کيُوں ہُوا؟
    دُعاگو
    شاہدہ اکرم

  3. عارم رقمطراز ہيں: بتاريخ Friday، 25 July 2008 بوقت 8:57 am

    دراصل ایک قیدی کو جب اچانک سے آزادی دیدی جائے تو اکثر اس سے اپنی آزادی سنبھالنا کافی مشکل ہوجاتا ہے. یہی حال ہمارے میڈیا کا ہے. “خبروں کی دوڑ میں سب آگے” کا نعرہ لگاکر کچھ زیادہ ہی آگے نکل جاتے ہیں.

  4. shahidaakram رقمطراز ہيں: بتاريخ Tuesday، 5 August 2008 بوقت 8:51 pm

    عارم صاحب شايد پيٹ کی خاطر اتنے مجبُور ہو جاتے ہيں تو پھر اور کسی بات کا خيال نہيں رہتا ايسے ميں بھلا بُرا پسِ پُشت ہی چلا جايا کرتا ہے نا بلاگ پر آنے کا شُکريہ

ٹريک بيک | آراء کا آر ايس ايس

اپني رائے يہاں ديں

Englishاردو

Englishاردو