دِل کے فيصلے
Friday، 25 July 2008 | مصنف: shahidaakram
بڑے انجان موسم ميں
بہت بے رنگ لمحوں ميں
بِنا آہٹ،بِنا دستک
بہت معصُوم سا سپنا
اُتر آيا ہے آنکھوں ميں
بِنا سوچے ،بِنا سمجھے
کہا ہے دِل نے چُپکے سے
ہاں اس ننھے سے سپنے کو
آنکھوں ميں جگہ دے دو
بِنا روکے،بِنا ٹوکے
رگوں کاخُون بننے دو
سانسوں ميں مہکنے دو
ہميشہ کی طرح اب بھی
بِنا اُلجھے ،بِنا بولے
جُھکا ديا ہے سر ہم نے
مگر تعبير کيا ہوگي؟
يہ ہم جانيں نہ دل جانے
بس معلُوم ہے اتنا
کہ دل کے فيصلے اکثر
ہميں کم راس آۓ ہيں
(شاعرہ زيڈ اے کنول کی يہ نظم مُجھے اس لۓ اچھی لگی کہ ہم اکثر جو سوچتے ہيں وہ ہوتا نہيں اور جو ہوتا ہے وہ دل کی خواہش نہيں ہوتی دل کے فيصلے بہت معصُوم ہوتے ہيں ليکن کيا کريں کہ دل ہی تو ہے)
اسی لیے کہتے ہیںکہ ارداہ کرنے سے پہلے سو دفعہ سوچو کو کیا تم جو کرنے جا رہے ہو وہ کر بھی سکو گے کہ نہیں. ہم لوگ ترنگ میںآکر ایسے ایسے کام شروع کر دیتے ہیںجو ہمارے بس میںنہیںہوتے اور پھر الزام دیتے ہیں قسمت یا دل کے فیصلوں کو.
لیکن نظم اچھی اور جاندار ہے.
واہ… بہت خوب.
“بس معلُوم ہے اتنا
کہ دل کے فيصلے اکثر
ہميں کم راس آئے ہیں”
بس اسی لیے میں نے تو دل کی سننا ہی چھوڑ دی ہوئی ہے.
بہت اچھی نظم ہے شاہدہ آپی ، آپ کا شاعری ذوق بہت اچھا ہے ۔
السلامُ عليکُم
بس افضل بھائ يہ تو دل کی باتيں ہيں جو شايد نرم دل جزبات کا پرتو ہوتی ہيں ورنہ تو سُوجھ بُوجھ والے کام بھی بعض اوقات غلط ہو جاتے ہيں اور ہم لوگ اُنہيں قسمت کانام دے ديتے ہيں
ماوراء جی پتہ ہے ہميشہ آ پ کی باتيں پڑھ کر مُجھے بہت مزہ آتا ہے کہ کتنے مزے کی عُمر ہے آپ کی ہر بات کو ہوا ميں اُڑا دينے والی يہ اِ س عُمر کا خاصہ ہے مزہ آتا ہے آپ کی باتيں پڑھ کر
حجاب شُکريہ بہت بہت
شاہدہ اکرم