نصيبوں کی مارياں
Tuesday، 29 July 2008 | مصنف: shahidaakram
نصيب ہی ايسے ہيں
پم لڑکيوں کے
ڈرتی رہتی ہيں، اپنے لڑکی ہونے سے
زمانہ کيا کہے گا
دُنيا کيا سوچے گی
لوگ باتيں کريں گے
خواپشوں کے موتی ،سدا بند رکھتی ہيں
اپنے ہی وجُود کی سيپيوں ميں
کہ سطح پر آ کر ہميں آشکار نا کر ديں
تمنّائيں دفن رکھتی ہيں اپنے وجُود کی قبر ميں
کہ اُن سے کوئ خُوشبُو پُھوٹ کر ہميں بدنام نا کردے
ستی ہو جاتی ہيں ، انہی وجُود کی قبروں ميں
اگر چہ ہميں اجازت نہيں ستی ہونے کی
ہم کانچ جيسی لڑ کياں
نازُک اور نرم
تيتريوں جيسي،پُھولوں جيسی
خُوبصُورت ناموں والی لڑکياں
پُکاری جاتی ہيں
ابھاگن ، منحُوں اور کوکھ جلی جيسی
تاريک اور مکرُوہ ناموں سے
ہمارے مُقدّر
ہمارے ٹائٹل کيُوں بن جاتے ہيں؟
بيوہ،مُطلقہ،يتيم، بانجھ
پروين شاکر کی دل کے تاروں کو ہلا دينے والی ايک حسين تخليق جو ايک حقيقت بھی ہے
السلام علیکم
کچھ اور بھی ٹائٹلز ہوتے ہیں ناں شاہدہ آپی ، شاعرہ نے سب ذکر نہیں کیے ابھی !
السلامُ عليکُم
شگُفتہ بے چاری شاعرہ کو خُود وقت کہاں ديا حالات و واقعات کے اُ س تسلسل نہ جو اُس کی اپنی جان پر گُزر گۓ وہ بھی تو اسی معاشرے کی باسی تھی تو انہی ٹائٹلز کی شکار ہُوئ اتنی ذہين اورحسين با صلاحيّت خاتُون زمانے کے ستم کا ويسے ہی شِکار ہُوئ جيسے کوئ ہمارے تُمہارے جيسی عام عورت ہو سکتی تھی
مع السلام
شاہدہ اکرم