ماں پياری ماں
Tuesday، 29 July 2008 | مصنف: shahidaakram
روز سوچُوں بيٹھ اکيلی
کب غم ہوں گے دُور
کيسے ماں کے سينے لگُوں ميں
ہُوں ملنے سے مجبُور
وہ مُلکِ عدم ميں رہتی ہيں
ميرا نگر ہے دُور
ميری ماں ہے چاند سے بڑھ کر
ميں اُس کی ہُوں چکور
کيا پيارا رشتہ ہے ماں کا جب ہو تو پيار کی قدر اور طرح کی ہوتی ہے اور جب چِھن جاۓ تو لگتا ہے دُنيا اندھير ہو گئ ہم نے کيا کھوديا جو کبھی نہيں مل سکتا واپس نا پيار نا لمس ، نا دُعاؤں بھرے شفيق ہاتھ سائبان کے بغير کُھلے آسمان کے نيچے تپتی جُھلستی زندگي، ٹھنڈا چشمہ جو نا رہا
بہت خوبصورت احساسات بیان کئیے ہیں، آپ نے خود لکھی ہے؟
اسماء جی شُکريہ بلاگ پر آمد کا اور يہ احساسات ميرے نہيں ہر بچے کے ہی ہوتے ہيں ماں کے لۓ ،ويسے يہ ميں نے نہيں لکھی ليکن يہ ميرے بھي دِل کی آواز ہے بِالکُل اُسی طرح جيسے کسی کے بھی دل کی آواز ہو سکتی ہے