سر کی چادر
Tuesday، 29 July 2008 | مصنف: shahidaakram
جب ميرے سر سے چادر اُتری
تو ميرے گھر کی چھت ميرے لۓ اجنبی ہو گئ
„تُم ہمارے لۓ مر چُکی ہو„
اہلِ خانہ کی خاموشی نے اعلان کيا
اور ميں بابُل کے دروازے سے
دستک دۓ بِناء
لوٹ آئ
ميں نے
(بڑے مان سے)
اپنے پريمی کی طرف ديکھا
مگر اس کی آنکھوں ميں برف جم چُکی تھی
(جيسے ميرے لۓ ان جھيلوں ميں کنول کبھی کھلے ہی نا تھے)
اب ميں کُھلے آسمان تلے کھڑی تھی
اپنے لال کو سينے سے لگاۓ
يا اللہ !ميں کہاں جاؤں
سر پہ پہاڑ سی رات
چاروں طرف بھيڑيئے
اور عورت بُو سُونگھتے ہُوۓ شکاری کُتے
„ہميں گھاس نا ڈالنے کا نتيجہ„ کہتی آنکھيں
„ہميں موقع دو„ کہنے والے اشارے
اور چيتھڑے اُڑانے والےقہقہے
اور مار دينے والی ہنسی
ٹھٹے کرتی ہوا
اور فقرے کستی بارش
ہر طرف سے سنگ باري!
مُجھ ميں اور پاگل پن ميں
بس ايک رات کا فاصلہ رہ گيا تھا
خُود کُشی بھی ميری تاک ميں بيٹھی تھی
قريب تھا کہ ميں اُس کے ہاتھ آجاتی
کہ ايک سايہ ميری طرف بڑھا
اور ميرے سر پر اپنا ہاتھ رکھ ديا
„ہميں کسی کی پرواہ نہيں
تُم جيسی بھی ہو، ہميں عزيزہو!”
اُس دِن
ميں اِتنا روئ
کہ دُنيا اگر ايک خالی تھال ہوتی
تو ميرے آنسُوؤں سے بھر جاتی
ميرا ملامت بھراوجُود
اُس دِن سے آج تک
اِس مہربان ساۓ کی پناہ ميں ہے
خُدا
کبھی کبھی
اپنے فرشتوں کو
زمين پر بھی بھيج ديتا ہے!
پروين شاکر کي ايک اور تلخيوں سے بھر پُور حقيقت کا رنگ لۓ شاہکار نظم
بہت خوب… کیا بات ہے… آج کل شاعری زیادہ پڑھی جارہی ہے آپی؟
شگُفتہ کيا اُداس ہونے سے کُچھ ہوگا ؟
عمّار شاعری سے دلچسپی جنُون کی حد تک ہے اور ہر وقت کُچھ بھی پڑھنے کے لۓ دل کو کوئ روک نہيں سکتا اب وہ اچھی شاعری ہو يا کوئ حسين اقتباس
شاہدہ اکرم