چليں ہم فرض کرتے ہيں
Monday، 4 August 2008 | مصنف: shahidaakram
يہ کيسا کھيل ہے تقدير کی بے نام بازی کا
کہ جو ہارے،سو ہارے ہيں
مگر جو جيت جاتے ہيں
اِنہيں بھی اِک نئ اُلجھن کی دلدل گھير ليتی ہے
کہ اِک مُشکل کے بعد اِک اور مُشکل گھير ليتی ہے
سمجھنے کے لۓ آئيں
چليں ہم فرض کرتے ہيں
کِسی لمحے کِسي اِک شخص کو پانا ہماری زندگی سے بھي زيادہ بيش قيمت تھا
ہم اِس کی آرزُو ميں ساری دُنيا بُھول بيٹھے تھے
بس اُس کا نام ليتے تھے ،اُسی کو ياد کرتے تھے
اُسی کی دُھن ميں جيتے تھے،اُسی کے غم ميں مرتے تھے
(امجد اسلام امجد کی ايک حسين نظم تقدير کی کھيلی گئ بازيوں کے نام پر جو ايک حقيقت ہے)
تقدیر کی باتیں سمجھ آتی ہیں کیا شاہدہ آپی
کچھ لوگ تقدیر پر یقین نہیں رکھتے کہ تقدیر انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے آپ کیا کہتی ہیں ؟؟
السلامُ عليکُم
حجاب ، نہيں تقدير کي باتيں سمجھ ميں نہيں آتي تھيں ليکن ہميشہ سے يہی سُنتے آۓ تھے کہ تقدير کو تدبير سے بدلا جا سکتا ہے اور ايسا ہوتے بھی ديکھا ہے بہت سی مثاليں ہيں اپنے سامنے کی اپنے گھر کی بھی ليکن جب معاملہ تقدير کا ہو تو يہ بھی ديکھا ہے کہ جو ،جہاں اور جيسا تقدير ميں تھا وہ مل کر رہا ہم لاکھ اُس سے بھاگيں يا مُنہ موڑيں وہ ہو کر رہتا ہے سو ميں دونوں باتوں پر ہی يقين رکھتی ہُوں کہ تقدير اللہ تعاليٰ کی بنائ ہُوئ ہوتی ہے اور ہم تدبير کر کے اُسے سنوار بھی سکتے ہيں اپنی مرضی کے مُطابق ليکن کُچھ مُعاملات ميں ہم تقدير کے سامنے سر جُھکا نے پر مجبُور ہو جاتے ہيں شايد ميں اپنی بات سمجھا پائ ہُوں يا نہيں ليکن ايسی بہت سی باتيں ہيں جو اس مد ميں کہہ سکتی ہُوں جن پر مُجھے بعد ميں خُود بہت حيرت ہوتی ہے جب وہ گُزر جاتی ہيں وجُود پر اپنی پُوری جُزئيات سميت
دُعاگو
ٹھیک کہا شاہدہ آپی بعض معاملات میں جتنی چاہے تدبیر کرلو اور معاملے میں تبدیلی نہ آئے تو وہ تقدیر ہے اٹل تقدیر ۔۔