يہ کيسا کھيل ہے تقدير کی بے نام بازی کا
کہ جو ہارے،سو ہارے ہيں
مگر جو جيت جاتے ہيں
اِنہيں بھی اِک نئ اُلجھن کی دلدل گھير ليتی ہے
کہ اِک مُشکل کے بعد اِک اور مُشکل گھير ليتی ہے
سمجھنے کے لۓ آئيں
چليں ہم فرض کرتے ہيں
کِسی لمحے کِسي اِک شخص کو پانا ہماری زندگی سے بھي زيادہ [...]
مکمل تحرير پڑھيے »
مُکّمل علم سر جُھکا کر نہيں سر اُٹھا کر سوال کرنے سے حاصل ہوتا ہے-
اگر آپ اپنی مُصيبتيں بُھول جانا چاہتے ہيں تو اپنے سائز سے ايک نمبر کم کا جُوتا پہن کر لمبی سير پر نِکل جائيں-
اگر آپ ريت سے مچھلياں نہيں پکڑ سکتے تو خواتين سے بحث ميں کيسے جيت سکتے ہيں؟(ارے يہ [...]
مکمل تحرير پڑھيے »
جب ميرے سر سے چادر اُتری
تو ميرے گھر کی چھت ميرے لۓ اجنبی ہو گئ
„تُم ہمارے لۓ مر چُکی ہو„
اہلِ خانہ کی خاموشی نے اعلان کيا
اور ميں بابُل کے دروازے سے
دستک دۓ بِناء
لوٹ آئ
ميں نے
(بڑے مان سے)
اپنے پريمی کی طرف ديکھا
مگر اس کی آنکھوں ميں برف جم چُکی تھی
(جيسے ميرے لۓ ان جھيلوں ميں کنول [...]
مکمل تحرير پڑھيے »
نصيب ہی ايسے ہيں
پم لڑکيوں کے
ڈرتی رہتی ہيں، اپنے لڑکی ہونے سے
زمانہ کيا کہے گا
دُنيا کيا سوچے گی
لوگ باتيں کريں گے
خواپشوں کے موتی ،سدا بند رکھتی ہيں
اپنے ہی وجُود کی سيپيوں ميں
کہ سطح پر آ کر ہميں آشکار نا کر ديں
تمنّائيں دفن رکھتی ہيں اپنے وجُود کی قبر ميں
کہ اُن سے کوئ خُوشبُو پُھوٹ کر [...]
مکمل تحرير پڑھيے »
بڑے انجان موسم ميں
بہت بے رنگ لمحوں ميں
بِنا آہٹ،بِنا دستک
بہت معصُوم سا سپنا
اُتر آيا ہے آنکھوں ميں
بِنا سوچے ،بِنا سمجھے
کہا ہے دِل نے چُپکے سے
ہاں اس ننھے سے سپنے کو
آنکھوں ميں جگہ دے دو
بِنا روکے،بِنا ٹوکے
رگوں کاخُون بننے دو
سانسوں ميں مہکنے دو
ہميشہ کی طرح اب بھی
بِنا اُلجھے ،بِنا بولے
جُھکا ديا ہے سر ہم نے
مگر تعبير [...]
مکمل تحرير پڑھيے »
ديکھ ہماری ديد کے کارن کيسا قابلِ ديد ہُوا
ايک ستارہ بيٹھے بيٹھے تابش ميں خُورشيد ہُوا
آج تو جانی ،رستہ تکتے،شام کا چاندپديد ہُوا
تُونے تو انکار کيا تھا،دِل کب نا اُمّيد ہُوا
آ ن کے اس بيمار کو ديکھے،تُجھ کو بھی تو فيق ہُوئ
لب پر اس کے نام تھا تيرا،جب بھی درد شديد ہُوا
ہاں اس نے جھلکی [...]
مکمل تحرير پڑھيے »
وُہ جزبے چھين لو مُجھ سے
جو ميرے انگ،ميری رُوح ،ميرے دل ميں بستے ہيں
جنہيں خُود ميں سمونے کے لۓ سينے ترستے ہيں
وُہ لمحے چھين لو مُجھ سے
جو ميرے ذہن کی تاريکيوں ميں شمع روشن ہے
مری خلوت کی خُوشبُو ہے، مری يادوں کے گُلشن ہيں
وُہ چہرے چھين لو مُجھ سے
جوخال و خد نہيں اب آئينے ہيں [...]
مکمل تحرير پڑھيے »
جن کے جبڑوں کو اپنوں کا خُوں لگ گيا
ظُلم کی سب حديں پاٹنے آ گۓ
مرگِ بنگال کے بعد بولان ميں
شہريوں کے گلے کاٹنے آ گۓ
آج سرحد سے پنجاب و مہران تک
تُم نے مقتل سجاۓ ہيں کيُوں غازيو
اتنی غارت گری کس کے ايماء پہ ہے
کس کے آ گے ہو تُم سر نِگُوں غازيو
کس شھنشاہِ عالی کا [...]
مکمل تحرير پڑھيے »
بے خوابی کی لوح پہ
خواب قلم سے لکّھے ہوتے ہيں
اوّل عُمر کی آنکھوں ميں
مر جانے والے
آنسُو ہوتے ہيں
وقت ڈھلان پہ
ٹھہرے ہُوۓ
نوحے ہوتے ہيں
دل دہليزوں پر
مٹی ہونے والے
وعدے ہوتے ہيں
کچّی عُمروں کے دُکھ پکّے ہوتے ہيں
(دُکھ تو دُکھ ہوتے ہی ہيں ليکن اس عُمر کي پہچان ہی يہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی خُوشياں اور غم گھنيرے [...]
مکمل تحرير پڑھيے »
کوئ زنجير ہو
آہن کي،چاندنی کی ، روايت کی
مُحبّت توڑ سکتی ہے
يہ ايسی ڈھال ہے جس پر
زمانے کی کسی تلوار کا سکّہ نہيں چلتا
اگر چشمِ تماشا ميں ذرا سی بھی ملاوٹ ہو
يہ آئينہ نہيں چلتا
يہ ايسی آگ ہے جس ميں
بدن شعلوں سے جلتے ہيں تو رُوحيں مُسکراتی ہيں
يہ وُہ سيلاب ہے جس کو
دلوں کی بستياں آواز [...]
مکمل تحرير پڑھيے »